سیکھ رہا ہوں میں بھی انسانوں کو پڑھنے کا ہنر
Poet: فیض By: بشیر, Karachiسیکھ رہا ہوں میں بھی انسانوں کو پڑھنے کا ہنر”
“سنا ہے کتابوں سے ذیادہ چہروں پہ لکھا ہوتا ہے
کچھ لوگ کہتے تھے کہ ھر موڑ پہ یاد کریں گے آپ کو”
“…لیکن شاید انکا پورا راستہ ھی سیدھا تھا _نہ موڑ آیا نہ ھم یاد آۓ.
خیال اُنھی کے آتے ہیں جن سے دل کا رشتہ ہو”
ہر شخص اپنا ہو جائے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
کچھ تلخ حقیقتیں تھی اتنی”
“کہ خواب ہی سارے ٹوٹ گئے۔۔۔۔۔
مدتوں بعد اسے خوش دیکھا تو یہ احساس ھوا
…..کہ کاش ___ میں اسے پہلے چھوڑ دیتا
!کٹ تو جاتی ہے مگر رات کی فطرت ہے عجیب
اس کو چپ چاپ جو کاٹو تو صدی بن جاتی ہے۔۔۔۔
میرے ہاتھ کی لکیروں میں یہ عیب ہے محسن”
“میں جس شخص کو چاہوں وہ میرا نہیں رہتا
زنجیروں سے بھاند کر ہمیں ”
“!…لفظوں سے مارا گیا
حیران نہیں ہوں فقط یہ دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔”
“کتنا گر رہے ہیں لوگ مجھے گرانے میں ۔۔۔۔
یہ اداس شاعری میں یونہی نہیں لکھتی”
“کے جب ٹوٹتی ہوں تو لفظوں میں بکھر جا تی ہوں
سر درد تو محض ایک نام ہے ۔۔۔۔۔”
کچھ باتیں
“دماغ کو ایسے چبتی ہیں کے ہم برداشت نہیں کر پاتے
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






