سکوتِ تنہائی میں تنہائی صدا دیتی ہے
Poet: سیده سعدیه عنبر جیلانی By: سیده سعدیه عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستانسکوتِ تنہائی میں تنہائی صدا دیتی ہے
خودفراموشی بھی کیا راہ دکھا دیتی ہے
ہر چیز سے وابستہ ہے یاد تیری
ہر چیز مجھے اکثر رولا دیتی ہے
کسی آسیب کی طرح محبت بھی
شہر کے شہر مٹا دیتی ہے
اہل ء ذوق کے لئیے لازم ہے ظرف بھی
انتہاۓ شوق رسوائی بھی سجا دیتی ہے
مخلص جذبوں سے جو ہوں سرگرداں
ان کو منزل بھی دعا دیتی ہے
سلگا کر تیری یاد بھی اکثر
مجھے مجھ میں ہی جلا دیتی ہے
تخیل و خیالات میں بس کے میرے
تیری خواہش مجھے تیرا بنا دیتی ہے
میرے درد کو مجھ میں ہی دبا کر
میری مسکان کئی راز چھپا دیتی ہے
کچھ لوگ ہوتے ہیں نثر کی مانند
خاموشی ان کی بھی ہر بات بتا دیتی ہے
محبت میں وفاؤں کی انمول کشش
اناء کی ہر دیوار گرا دیتی ہے
مسافتِ عمر کی ہر تلاش میری
مجھے تیرا ہی پتا دیتی ہے
اک دلِ اداس، اک یاد تیری
میری وحشت کچھ اور بڑھا دیتی ہے
جلا دیتی ہے محبت کے چراغوں کو عنبر
وفا اپنے تقاضے کیا خوب نبھا دیتی ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






