سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
Poet: UA By: UA, Lahoreسوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
تیری گلیوں میں بہت دھول اڑائی ہم نے
تیرے کوچے کی خاک سر پہ سجائی ہم نے
عین ممکن ہے کوئی ہم کو سر پھرا کہہ دے
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
وہ بھی دن تھے کہ تیرے روبرو ہم رہتے تھے
وہ بھی دن تھے کہ تجھ سے دل کی بات کہتے تھے
اب یہاں کون ہے کہ جس سے مدعا کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
کون ایسا ہے جسے تیری طرح سے چاہیں
کون ایسا ہے جسے کھو کے بھی نہ کھو پائیں
دل کی یہ آرزو ہم تجھ سے بارہا کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
کہہ دیا تم سے جو کہنا تھا تم نے سن بھی لیا
ہم نے تیرا کہا تیرے کہے بن سن بھی لیا
اور ہم کیا سنیں ہم اور بھلا کیا کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
ساتھ مانگا تھا ہم نے تم سے دو گھڑی کے لئے
تم نے احسان کیا ہم پہ زندگی کے لئے
کیوں نہ اس نعمت عظمٰی پہ اک قطعہ کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ الوداع کہہ دیں
سوچتے ہیں کہ اب وداع کہہ دیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






