سوچتا ہوں کہ بدل لوں خود کو
Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujratسوچتا ہوں کہ بدل لوں خود کو مگر سچ کہ اب یہ ممکن بھی نہیں
سوچتا ہوں بہہ جاؤں کسی دریا کی طغیانی میں کہتے ہیں کنارے تیرا کوئی جرم نہیں
سوچتا ہوں اسے منگنا چھوڑ دو اب خدا سے
کہتی ہے دعا بعد اسکے تیری کوئی دعا بھی نہیں
سوچتا ہو کہ اب اسے اسی کے حال پہ چھوڑ دوں
کہتا ہے عشق وہ پاگل ہے سوا تیرے اسکا کوئی نہیں
سوچتا ہوں کہ اب چھوڑ دوں خود کو جلانہ خود کو رولانا
کہتا ہے سگریٹ سوا میرے تیرا کوئی رقیب بھی نہیں
سوچتا ہوں کہ اسے اس کی مخبت کی نظر کر دوں
دل کی صدا اچھا ہے وقت اسکا سوا اس کے کچھ نہیں
سوچتا ہوں اب کبھی وہ ملے تو نظریں جھکا کے گزر جاوں
کہتا ہے خیال اتنا نہ کر ظلم تیرے بس میں یہ بات نہیں
سوچتا ہوں کہ کر لو گھر کسی گورستاں اب میں اپنا
خواب کہتا ہے رک جا ارے رک جا اب تو بچا کچھ بھی نہیں
سوچتا ہوں کہ اب لوٹ بھی آئےتو منوں پھیر لو یہ کہہ کر کون ہو تم ؟
ایمان کہتا ہے نفیس سوا اسکے کسی اور کو دیکھا بھی تو نہیں ۔
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






