سنبھالے جائیں
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaبے ضمیرے نہ کسی طور بھی پالے جائیں
تھام کر ہاتھ یہ اب گھر سے نکالے جائیں
قرض ہم نے جو دیا، کوئی بڑا جرم کیا؟
روز ہی اور کسی روز پہ ٹالے جائیں
اشک تُو نے جو دیئے قیمتی سرمایہ ہیں
تیرے بخشے ہوئے موتی نہ سنبھالے جائیں
ہاں میں جو ہاں کے ہیں قائل وہی محفل میں رہیں
جو مری ضد میں اٹھا لائے حوالے، جائیں
سخت مشکل میں ہیں، اے اہلِ وطن کیا ہوگا؟
روز حالات نئے سانچوں میں ڈھالے جائیں
دل (کہ آسیب زدہ ایک حویلی ہے) مرا
اس کی پہچان (یہی ہوتے ہیں جالے)، جائیں؟
صاحبِ شہر تو آزاد ہر افتاد سے ہے
اور مشکل میں ہمی لوگ ہی ڈالے جائیں
کس ڈھٹائی سے یہ اعلان ہؤا ہے سرِ بزم
گورے رہ جائیں یہاں جتنے ہیں کالے، جائیں
میں جو چپ ہوں تو ہوں انجان ضروری تو نہیں
آپ کے روپ میں ہیں کتنے اجالے؟ جائیں
یاد زندہ ہے تجھے کیسے نکالوں دل سے
ڈوبیں دریا میں تو مُردے ہی اچھالے جائیں
دل میں حسرتؔ ہے مجھے آخری بار آ کے ملو
کیا ملے مجھ کو سکوں، ہونٹوں سے نالے جائیں
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






