زندگی سنور ہی جائے گی
Poet: kashif imran By: kashif imran, Mianwaliدلوں میں ہمار ے کیا ہے
کوئی جانتا ہے کیا
سچائی ہے یا ہے کچھ اور
پاکیزگی ہے یا ہے کچھ اور
نہ ہو خبر کسی کو
نہ کوئی جانے کچھ بھی
چھپاتے ہیں سب سے
اپنے دلوں کو
اور ڈھانپتے ہیں
دلوں میں ہے جو کچھ
مگر
جانتا ہے کوئی
سب کچھ دلوں میں سوچتا ہے جو بھی
دیکھتا ہے کوئی
سب کچھ دلوں میں رکھتے ہیں جو بھی
وہ ذات واحدہے میرے رب کی
یہ سب مانتے ہیں،یہ سب جانتے ہیں
مگر پھر بھی
سمجھتے نہیں کچھ، سیکھتے نہیں کچھ
دوسروں کو آزماتے،جانچتے اور پرکھتے
نظر سب کے عیبوں پر رکھتے ہیں سب
گریباں میں اپنے نہ جھانکا کبھی بھی
اگر دل میں ہو پیدا خوف خدا تو
سنور جائے گی زندگی اپنی
نظر آئیں گے صرف اپنے ہی عیب
دل میں پڑی میل اور پڑا ہے جو پردہ
سب ڈھل ہی جائے گا اور
ہوجائے گا دل اجلا اجلا
پھر زندگی سنور جائے گی
اپنی تو اپنی ، اووروں کی بھی
سنوار سکیں گے تب ہی
اگر
پہلے سنوری ہوگی اپنی زندگی
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






