زرد جذبے ہوں تو کب نشو و نما ملتی ہے
Poet: lost soul By: Haseeb Khan, karachiزرد جذبے ہوں تو کب نشو و نما ملتی ہے
فن کو تہذیب کی بارش سے جلا ملتی ہے
سر میں سودا ہے تو چاہت کے سفر پر نکلیں
کرب کی دھُوپ، طلب سے بھی سوا ملتی ہے
کون سی سمت میں ہجرت کا ارادہ باندھیں
کوئی بتلائے، کہاں تازہ ہوا ملتی ہے
چاند چہرے پہ جواں قوسِ قزح کی صُورت
تیری زُلفوں سے گھٹاؤں کی ادا ملتی ہے
ہم تو پیدا ہی اذیّت کے لئے ہوتے ہیں
ہم فقیروں سے تو دُکھ میں بھی دُعا ملتی ہے
کتنا دُشوار ہے اب منزلِ جاناں کا سفر
خواہشِ قربِ بدن، آبلہ پا ملتی ہے
بے نمو شاخوں سے پتّوں کو شکایت کیا ہو
اب تو پیڑوں کو بھی مشکل سے غذا ملتی ہے
اور بڑھنے دو گھٹن خوف نہ کھاؤ اِس سے
شدّتِ حبس سے تحریکِ بقا ملتی ہے
کبھی فرصت کی کوئی شام، سحر تک دے دے
یوں جو ملتی ہے سرِ راہے تو کیا ملتی ہے
سر سے چادر نہ اُتارو مِرے اچھے فنکار
برہنہ حرف کو معنی کی رِدا ملتی ہے
تیرا انصاف عجب ہے مِرے جبار و غنی
جرم ہم کرتے ہیں بچوں کو سزا ملتی ہے
جب سے تنہائی کو اوڑھا ہے بدن پر
تمکنت لہجے میں پہلے سے سوا ملتی ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






