زخمی پنچھی
Poet: ڈاکٹر صبا غزالی By: ڈاکٹر صبا غزالی, Karachiصبح و شام اُڑنے والے
پل پل گھر گھر جانے والے
سنیں تمھاری باتیں تو
خوش ہوں کہ ہم ہیں اُڑنے والے۔
ہے اللہ کی خلق اشرف
پر آئے نہ حق کی طرف
عجب مغرور مخلوق ہے تُو
فساد پھیلائے تُو ہر طرف
مصیبت ہمارے لیے کرت
غبار اُڑاتا اور خود اُڑت
نہایت ہی سخت دل ہے تُو
کیوں نہیں سَر کے بَل گِرت
کھانے پینے میں ملایا زہر
سکون پائے نہ شام و سحر
دھوکا دے فریب کرے
کیوں نہ آئے تجھ پر اللہ کا قہر
بہت اونچی آواز تیری
پر نہیں بلند پرواز تیری
مقام سے تُو کیوں گِرتا ہے
صلاحیتیں ہیں خاص تیری
میں اُڑا اور گِر گی
اک جوان مجھے کچل گی
اس کے پائوں میں آیا پَر
وہ کٹ کے الگ ہو گی
میں اب نیچے بیٹھا ہوں
آتے جاتے تجھے دیکھتا ہوں
پریشان ہوں تیری حالت پر
حالت تیری جب یہ دیکھتا ہوں۔
الجھا ہے چھوٹی باتوں میں
مزدوری کرتا راتوں میں
نہ فکر موت نہ خوف آخرت
یہی کرنے اور بونے کا وقت
گَر جو الجھا رہا یوں دنیا میں
تو کیا پائے گا آخری ساعتوں میں
سن میری بات ذر
ابلیس قطعی نہیں تیر
وہ چاہے تیرے گِرد اندھیر
اور نہ ملے تجھے کوئی سویرہ
وہ پھانس چکا تجھے بری طرح
تنگ ہو چکا اب تجھ پہ گھیرا
مگر تجھے ملی ہے عزت
بخشی اللہ نے اک صلاحیت
گَر جو تجھے ہو یہ چاہت
کہ پائے ایمان کی لذت
سنوارے پھر اپنی آخرت
اور بن جائے مَکِیں جنّت
تو میں پھر بتائوں تجھے
تیری شان سمجھائوں تجھے
تُو ہے وہ جسے کرے سجدہ ہر خلق
اس سے زیادہ کیا بتائوں تجھے
اللہ نے یہ تجھ سے کہ
توبہ کر اور منا مجھے
اب جلدی اٹھ اور کر سجدہ
جیسے اللہ نے حکم دی
وقت ہے سو کر لے توبہ
نماز ہے ذریعہ ایمان و حی
حب اللہ کا جو چاہے سلسلہ
وہ اٹھے اور بس کرے سجدہ
پھر جو اس پہ قائم رہ
اسی کو اللہ کا فضل ملا
مجھے تو مار جاتے ہیں انسان
جو شعور نہیں تو یہ بھی حیوان
کہلائیں نصرانی یہود یا مسلمان
اصل شے تو ہے ان کا ایمان
شعور و علم حکمت و فہم
نایاب ان ہی سے بنتا ہے انسان
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






