زخم کی بات نہ کر زخم تو بھر جاتا ہے
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہورزَخم کی بات نہ کر زَخم تو بھر جاتا ہے
تیر لہجے کا کلیجے میں اُتر جاتا ہے
موج کی موت ہے ساحل کا نظر آ جانا
شوق کترا کے کنارے سے گزر جاتا ہے
شعبدہ کیسا دِکھایا ہے مسیحائی نے
سانس چلتی ہے ، بھلے آدمی مر جاتا ہے
آنکھ نہ جھپکوں تو سب ناگ سمجھتے ہیں مجھے
گر جھپک لوں تو یہ جیون یوں گزر جاتا ہے
مندَروں میں بھی دُعائیں تو سنی جاتی ہیں!
اَشک بہہ جائیں جدھر ، مولا اُدھر جاتا ہے
حُسن اَفزا ہوئی اَشکوں کی سنہری برکھا
پھول برسات میں جس طرح نکھر جاتا ہے
غالبا تخت پہ جنات کا سایہ ہو گا!
کچھ تو ہے ہر کوئی آتے ہی مکر جاتا ہے
’’ایسی‘‘ باتیں جو ’’اَکیلے‘‘ میں نہ ’’دیوانہ‘‘ کرے
بادشہ وُہ بھرے دَربار میں کر جاتا ہے
گر نہ لکھوں میں قصیدہ تو ہے تلوار اَقرب
سر بچا لوں تو مرا ذوقِ ہنر جاتا ہے
قیس ! گر آج ہیں زِندہ تو جنوں زِندہ باد!
سوچنے والا تو اِس دور میں مر جاتا ہے
شہزاد قیس کی کتاب "اِنقلاب" سے انتخاب
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






