دیر آنے میں بہت کر دی مگر آۓ تو ہو
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدیر آنے میں بہت کر دی مگر آۓ تو ہو
واسطے میرے نویدِ صبح تم لاۓ تو ہو
اعترافِ جرُم تم کرتے نہیں تو نہ سہی
ذِکر سُن کر میری بربادی کا گبھراۓ تو ہو
بہہ گئے ہو وقت کی رو میں اگرچہ دُور تک
چاہے جیسے بھی ہو لیکن میرے ماں جاۓ تو ہو
جا چکے ہو تم ہماری زندگی سے دُور گو
ایک مدُت سے دِل و جاں پر مگر چھاۓ تو ہو
نہ ملے مجھ کو کڑی دوپہر میں بادل کوئی
جو بچاۓ دھوُپ سے وہ تم مِرے ساۓ تو ہو
سیکھ لی تم نے کہاں سے یوں دھڑکنے کی ادا
نام سن کر اُن کا اے دل تھوڑا شرمائے تو ہو
پھول لا پائے نہیں تو صرف کانٹے ہی سہی
کم سے کم میرے لئے تحفہ کوئی لائے تو ہو
غم نہیں سب کچھ لٹا کے آنکھ اب جا کر کھلی
زندگی کیا چیز ہے تم یہ سمجھ پائے تو ہو
قربتوں کو اک نہ اک دن رنگ تو لانا ہی تھا
بعد مدت کے سہی پر دل کو تم بھائے تو ہو
ہم نہ کہتے تھے کہ تم اچھی طرح سے سوچ لو
فیصلہ کر کے غلط اب دل میں پچھتائے تو ہو
ہے غنیمت مجھ کو عذراؔ یہ بے ہنگم شور بھی
گہری خاموشی میں آخر کوئی ہوُ ہاۓ تو ہو
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







