دنیا اور آخرت
Poet: kashif imran By: kashif imran, Mianwaliدل کو اپنے
یہ کیا ہوا؟
سنبھلتا ہی نہیں
بہلتا ہی نہیں
شادمانی میں بھی
مچلتا ہی نہیں
زور سے اب یہ
دھڑکتا ہی نہیں
اداسیوں نے
محرمیوں نے
مایوسیوں نے
حسرتوں نے
لگا لئے ہیں
ڈیرے اس میں
اور اب اس میں
نہ کوئی
امید ہے باقی
نہ کوئی
حوصلہ اور ہمت
برداشت اور صبر
ہے باقی
بس
انتظار ہے
زندگی کے سفر
تمام ہونے کا
اور
گہری شام ہونے کا
کیونکہ
نہ کوئی کرن
دکھائی دیتی ہے
نہ کوئی آس
دکھائی دیتی ہے
وطن میں اپنے
کچھ ایسا دکھائی دیتا ہے
کہ
نہ کوئی ہے اپنا
محافظ اور نہ منصف کوئی
نہ قائد کوئی نہ مخلص کوئی
نہ صادق کوئی نہ امین کوئی
پھر کیسے یہ دل
سنبھلے، بہلے، مچلے
یہاں پر ہوگئی
سستی موت
مہنگی زندگی
پرواہ نہیں کسے بھی
سسکتے بلکتے تڑپتے
بھوک سے مرتے
انسانوں کی، نونہالوں کی
بس فکر لگی ہے
سب کو
اپنا آپ بنانے کی
اپنا مفاد پانے کی
دکھ اووروں کو
دے کر خوشیاں
اپنی منانے کی
مگر
بھول گئے ہیں
سب
کہ آخر اک دن
مرنا ہوگا
جو کیا ہے
وہ بھرنا ہوگا
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






