دلاسا
Poet: Zohra Nigar By: Rizwana Khan, karachiدوستی کا اک سمندر
ان گنت ساحل وفا کے
اپنے سینے میں چھپائے
جانے کب سے بھ رہا ہے
دفعتا یک موج ابھری
موتیوں کی شکل میں
ڈھلتے ہو ئے الفاظ جملے
خود بخود دل سے اٹھے
لب تک گئے
دل کا ہر یک بوجھ لفظوں نے اٹھایا
فکر کا ہر لمحہ یک جملے سے ٹکرایا
بکھر کر کھوگیا
غم کا ریزہ ریزہ
کچھ باتوں کی رو میں بہ گیا
ان گنت ساحل وفا کے
اپنے سینے میں چھپائے
جانے کب سے بھ رہا ہے
دفعتا یک موج ابھری
موتیوں کی شکل میں
ڈھلتے ہو ئے الفاظ جملے
خود بخود دل سے اٹھے
لب تک گئے
دل کا ہر یک بوجھ لفظوں نے اٹھایا
فکر کا ہر لمحہ یک جملے سے ٹکرایا
بکھر کر کھوگیا
غم کا ریزہ ریزہ
کچھ باتوں کی رو میں بہ گیا
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






