دریا کی طرف دیکھ لو اک بار مرے یار
Poet: روحان By: روحان, Lahoreدریا کی طرف دیکھ لو اک بار مرے یار
اک موج کہ کہتی ہے مرے یار مرے یار
ویرانیٔ گلشن پہ ہی معمور ہے موسم
مٹی سے نکلتے نہیں اشجار مرے یار
کیا خاک کسی غیر پہ دل کو ہو بھروسا
اپنے بھی ہوئے جاتے ہیں اغیار مرے یار
مقتل سی فضا رہتی ہے اس ملک میں ہر دم
دیکھے ہیں مناظر کئی خوں بار مرے یار
ہم خاک نشینوں کی یہاں کون سنے گا
اونچے ہیں بہت خواب کے دربار مرے یار
دیکھو یہ چلن ٹھیک نہیں عشق میں ہرگز
وعدے سے مکر جاتے ہو ہر بار مرے یار
دو چار ہی الفاظ محبت سے بھرے ہوں
تو دشت کو کر دیتے ہیں گلزار مرے یار
حسانؔ جواں خوب تری مشق سخن ہے
ہر روز کہے جاتے ہو اشعار مرے یار
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






