دربار میں حاضر ہے
Poet: حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب By: Umma Muhammad, Kuala Lumpur Malayisaدربار میں حاضر ہےاک بندۂ آوارہ
آج اپنی خطاؤں کا لادے ہوئے پشتارا
سرگشتہ و درماندہ بے ہمت و ناکارہ
وارفتہ و سرگرداں بے مایہ و بے چارہ
شیطاں کا ستم خوردہ اس نفس کا دکھیارا
ہر سمت سے غفلت کا گھیرے ہوئے اندھیارا
دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ
آج اپنی خطاؤں کا ۔۔۔ لادے ہوئے پشتارا
جذبات کی موجوں میں لفظوں کی زباں گم ہے
عالم ہے تحیر کا یارائے بیاں گم ہے
مضمون جو سوچا تھا کیا جانے کہاں گم ہے
آنکھوں میں بھی اشکوں کا اب نام و نشاں گم ہے
سینے میں سلگتا ہے رہ رہ کے اک انگارہ
دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ
آج اپنی خطاؤں کا ۔۔۔ لادے ہوئے پشتارا
آیا ہوں ترے در پر خاموش نوا لے کر
نیکی سے تہی دامن انبارِ خطا لے کر
لیکن تری چوکھٹ سے امیدِ سخا لے کر
اعمال کی ظلمت میں توبہ کی ضیا لے کر
سینے میں تلاطم ہے دل شرم سے صدپارہ
دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ
آج اپنی خطاؤں کا ۔۔۔ لادے ہوئے پشتارا
امید کا مرگز ہے رحمت سے بھرا گھر ہے
اس گھر کا ہر اک ذرہ رشکِ مہ و اختر ہے
محروم نہیں کوئی جس در سے یہ وہ در ہے
جو اس کا بھکاری ہے قسمت کا سکندر ہے
یہ نور کا قلزم ہے یہ امن کا فوّارہ
دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ
آج اپنی خطاؤں کا لادے ہوئے پشتارا
یہ کعبہ کرشمہ ہے یارب تری قدرت کا
ہر لمحہ یہاں جاری میزاب ہے رحمت کا
ہر آن برستا ہے دھن تیری سخاوت کا
مظہر ہے یہ بندوں سے خالق کی محبت کا
اس عالم پستی میں عظمت کا یہ چوبارا
دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ
آج اپنی خطاؤں کا لادے ہوئے پشتارا
یارب! مجھے دنیا میں جینے کا قرینہ دے
میرے دلِ ویراں کو الفت کا خزینہ دے
سیلابِ معاصی میں طاعت کا سفینہ دے
ہستی کے اندھیروں کو انوارِ مدینہ دے
پھر دہر میں پھیلادے ایمان کا اجیارا
دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ
آج اپنی خطاؤں کا لادے ہوئے پشتارا
یارب میری ہستی پر کچھ خاص کرم فرما
بخشے ہوئے بندوں میں مجھ کو بھی رقم فرما
بھٹکے ہوئے راہی کا رخ سوئے حرم فرما
دنیا کو اطاعت سے گلزارِ ارم فرما
کردے میرے ماضی کے ہر سانس کا کفارہ
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






