خون کا اثر
Poet: Nadia Umber lodhi By: Nadia Umber Lodhi, Islamabadسب فرضی باتیں ہیں
قصے ہیں
کہانیاں ہیں
خون کا اثر تربیت سے زیادہ ہو تا ہے
یہ طے شدہ نتیجہ ہے
تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے
تربیت مات نہیں دے سکتی
فطرت کو
شفقت بدل نہیں سکتی
خون کے اثر کو
نیک نیتی سے کی گئی نیکیاں
کبھی کبھی آزمائشں بن جایا کرتی ہیں
خود جو نسلماں کہتے ہو
تو راضی برضا کیوں نہیں ہو تے
قرآن پڑ ھتے ہو
پھر بھی رب کے فیصلے سے ٹکراتے ہو
جو فرض تم کو سونپا نہیں گیا
چُنا نہیں گیا
کیوں اسکا بار اٹھاتے ہو
اپنی ناقص عقل کو
عقل ۔ُکل سے
صلیب ۔مقدر سے ٹکراتے ہو
حلال حرام برابر نہیں ہو سکتے
لے پالک بچے
تمہاری ولدیت کے
ساجھی نہیں بن سکتے
انہیں یتیم خانے میں رہنے دو
مت توڑو
ان کے ننھے دل
ان کے کمزور وجود
کھلونا نہیں ہیں
یہ انسان ہیں
انسان کے گناہ کا ثبوت
مگر گناہ کا حصہ نہیں ہیں
خود گناہ گار نہیں ہیں
ناجائز بچے
معاشرہ جائز نہیں کرتا
ان کو ان کی دنیا میں رہنے دو
مت چھینو ان سے
دنیا انکی
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






