خوشی سے تم بچھڑ جاو
Poet: Abubakar Anjum By: Abubakar Anjum, Chishtianﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺑﭽﮭﮍ ﺟﺎؤ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ
ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺎ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﮐﺮﻧﺎ
ﮐﮧ ﻣﺸﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻟﮩﺮ
ﺩﯾﻨﺎ ،ﺯﺑﺎﮞ ﺩﯾﻨﺎ
ﺳﺒﮭﯽ ﺟﺬﺑﮯ ،ﺳﺒﮭﯽ ﻗﺴﻤﯿﮟ
ﺳﺒﮭﯽ ﻭﻋﺪﮮ ﺑﮭﻼ ﺩﯾﻨﺎ
ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﮨﻮ ﮔﺮ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﺗﻮ ،ﻧﯿﺎ
ﺩﺳﺘﻮﺭ ﻻ ﺩﯾﻨﺎ
ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮯ ﺟﺎﻥ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮ ،ﺍﺳﯽ ﮐﺎ
ﺧﻮﮞ ﺑﮩﺎ ﺩﯾﻨﺎ
ﺳﻮ ﮐﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﯾﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ
ﺟﺮﻡ ﮨﮯ ﺁﺧﺮ
ﮔﻮﺍﺉ ﺟﺎﻥ ﺟﻮ ﺗﻤﻨﮯ ﺗﻮ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯿﺎ
ﺑﭽﺎ ﺁﺧﺮ ؟
ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﯾﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮐﮧ ﺷﺐ
ﮐﻮ ڈﻭﺑﺘﺎ ﺳﻮﺭﺝ ،ﺍﻧﺪﮬﯿﺮ ﮮ ﺟﮕﺎﺗﺎ
ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ ﺟﺬﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﮎ ﺳﺮﺷﺎﺭ ﻧﺌﯽ
ﺻﺒﺢ ﺑﮭﯽ ﻻﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﺳﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﻢ
ﺟﯿﺖ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ
ﻣﮕﺮ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﯾﮧ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ، ﮐﯿﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺑﮭﻮﻝ ﭘﺎﺅ ﮔﮯ ؟
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﻻﮐﮫ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ
ﻭﺍﭘﺲ ﻧﺎ ﺁﻭﮞ ﮔﺎ
ﮐﺴﯽ ﺷﺐ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﺍﻧﺠﻢ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺅ ﮔﺎ
More Sad Poetry
تلخ زندگی صبح کے بھولے بسروں کو شام میں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
Toqeer Ahmad
دولت کی ہوس نے دل کو جلا ڈالا دولت کی ہوس نے دل کو جلا ڈالا ہے
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
Hina
بینا تمھیں چاہا .خطا نہیں دل کی یہ دل ہماراتم پہ آیا ہے بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
Bina
غزل شبِ تنہائی میں بیٹھا تھا وہ شخص
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص
Abdullah Ahtsham






