خودکشی کرنے والی 26 سالہ شاعرہ کے نام
Poet: تنہاؔ لائلپوری By: Tanha Lyallpuri, Faisalabadفکر و تدبیر کے کوزے میں سما سکتے ہیں
مسئلے عشق کے سلجھائے بھی جا سکتے ہیں
لوحِ محفوظ نہیں قصۂ رنج و غمِ ہجر
چند الفاظ ہیں، تحریر میں آ سکتے ہیں
وہ زمانے کے خداوند ہیں، ناچار نہیں
پردۀ غیب سے آواز لگا سکتے ہیں
چشمِ موسیٰؑ نہیں دیدار کی مشتاق فقط
مدعا ہم بھی زباں پر کوئی لا سکتے ہیں
ہو گیا آمدِ مہمانِ خصوصی کا وقت
اب فرشتے نئے قالین بچھا سکتے ہیں
کیا ضروری ہے شبِ وصل بچھونے مہکیں
بسترِ مرگ بھی پھولوں سے سجا سکتے ہیں
غیر کے ساتھ ہوں، بے وقعت و کم ظرف نہیں
آپ محفل میں مجھے پاس بٹھا سکتے ہیں
باغِ جنت میں بہت وقت میسر ہے ہمیں
یعنی اب ہم تری تصویر بنا سکتے ہیں
دے چلے ضعف میں بیمار کے اعصاب جواب
آپ تکیے سے قلم دان اٹھا سکتے ہیں
ہم ہوئے دشت و بیاباں کے مسافر تنہاؔ
کوچۂ یار کی راحت کہاں پا سکتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






