خود ہی سلگھاتے ہو چنگاڑی پھر خود ہی بجھا دیتے ہو
Poet: Hooba By: Hooba, attockخود ہی سلگھاتے ہو چنگاڑی پھر خود ہی بجھا دیتے ہو
ابھی بجھنے بھی نہیں پاتی آگ پھر سے لگا دیتے ہو
پیار ہے تمہیں غیروں سے، غیروں سے ہے پیار تمہیں
پیار کرتے ہو غیروں سے اور اپنوں کو دغا دیتے ہو
ہو رکھتے یاد اوروں کو، اوروں کو یاد رکھتے ہو
یاد رکھتے ہو اوروں کو اور اپنوں کو بھلا دیتے ہو
ہم ترستے ہیں اک دیدار کو، اک دیدار کو ترستے ہیں ہم
ہمیں تڑپاتے ہو دیدار کو ہائے کتنا جینے کا مزا دیتے ہو
رکھتے ہو خوش رقیبوں کو، رقیبوں کو خوش رکھتے ہو
نکلتے ہو محفل سے رقیبوں کی دل اپنوں کا جلا دیتے ہو
رکھتے ہو دور دور ہم کو، ہم کو دور دور رکھتے ہو
دور کرتے ہو پہلے خود ہی پھر خود ہی بلا دیتے ہو
جلاتے ہو چراغ محبت کے، محبت کے چراغ جلاتے ہو
جلاتے ہو چراغ محبت خود ہی پھر خود ہی ہوا دیتے ہو
مجھے کرتے پھرتے ہو بدنام، بدنام کرتے پھرتے ہو مجھے
مجھے کرتے ہو بدنام زمانے میں یہ محبت کی جزا دیتے ہو
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






