خزاں کے اگے کھڑا رہوں گا
Poet: ڈاکٹر زوہیب ارشد By: Dr Zuhaib Arshad, Multanمیں خشک جنگل کو چھوڑ کر اب
نئے جزیروں کی راہ دیکھوں
تو معاف کرنا اے میرے ہم دم
یہ مجھ سے ہر گز نہ ہو سکے گا
نیا ٹھکانہ ہر ایک موسم
یہ مجھ سے ہر گز نہ ہو سکے گا
یہ وہ شجر ہیں جو میرے سر پر
سایہ بن کر صدا کھڑے تھے
یہ وہ شجر ہیں جو میری خاطر
باد و باراں سے بھی لڑے تھے
یہ وہ شجر ہیں جنھوں نے مجھ کو
اپنے آنگن میں گھر دیا تھا
جنھوں نے ساون میں میرا دامن
پھلوں سے پھولوں سے بھر دیا تھا
جو آج ان پر خزاں ہے اتری
میں خشک پتوں کو چھوڑ جاؤں
جو ایک مدت گنوا کے پائے
وہ سارے رشتوں کو توڑ جاؤں
عجیب باتیں عجیب منتق
یہ مجھ سے ہر گز نہ ہو سکے گا
کہ میرے تن میں ہے جان جب تک
یہ مجھ سے ہر گز نہ ہو سکے گا
یہیں رکوں گا یہیں لڑوں گا
یہاں کے موسم کی سازشوں سے
کبھی تو برسے گا ابر آخر
امید رکھوں گا بارشوں سے
میں کھینچ لاؤں گا چیر کر کوہ
جنگلوں میں ندی کا پانی
میں آپ سینچوں گا اپنی قسمت
میں آپ لکھوں گا یہ کہانی
خزاں اڑی ہے جو ضد پے اپنی
تو میں بھی ضد پے اڑا رہوں گا
میں ہر شجر کی وفا کے بدلے
خزاں کے آگے کھڑا رہوں گا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






