خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ اپنی زباں سے مجھے کچھ بھی نہیں کہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
جب بات شروع کی ہمیشہ ہم نے شروع کی
ہم بولتے رہتے ہیں وہ خاموش رہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
ان کو یہ ڈر کہیں یہ شہرہ عام نہ ہو جائے
پر تولتا پنچھی کہیں بدنام نہ ہو جائے
وہ اس لئے سنی بھی ان سنی کئے دیتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
حق تو ہے مگر مجھ سے ناراض نہیں ہوتے
میری خطاؤں کو بڑے آرام سے سہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
حسرت ہے مجھ سے وہ کبھی تکرار بھی کریں
لیکن میری ہر بات پہ چپ چاپ ہی رہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
وہ خندہ جبیں، کم سخن وہ صاحب ادراک
سنتے ہیں میری بات پر اپنی نہیں کہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
وہ اپنی زباں سے مجھے کچھ بھی نہیں کہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






