حیات تیری
Poet: Muhammad Siddique Prihar By: Muhammmad Siddique Prihar, Layyahتلاوت قرآن سے معلوم ہوا پڑھتا ہے خدا نعت تیری
خوشبو ہے میرے لفظوں میں زباں میری ہے بات تیری
مشہور ہے سوال جابر کا دربار نبوت میں تحقیق ہوئی
کچھ بھی نہ تھا کہیں بھی نور مصطفی کی تخلیق ہوئی
مصروف ہوئے حمد وثنا ء میں جس کو جتنی توفیق ہوئی
جدا نہیں کوئی کسی سے جانے کب یہ تفریق ہوئی
لوح پر حکم کبریاء سے لکھیں قلم نے تفصیلات تیری
بنے جس سے عرش و کرسی میرے رسول کا نورہے
بہشت شرم عشق ہوئے پیدا خلق عالم ارواح شعور ہے
سورج چاند ستارے روشن ہوئے لوح قلم بیت المعمور ہے
بزم جہاں سجائی تیرے لیے تو محبوب رب غفور ہے
بچھائی زمیں رب خیمے لگائے مکاں سے لا مکاں کائنات تیری
چاہتے ہیں بھلائی سب کی اسی لیے رحمت لقب تیرا
دیتی ہے گواہی تیری سیرت خلق عظیم ہے منصب تیرا
کامیاب ہے دونوں جہاں میں دل سے کرے ادب تیرا
مواحد ہیں سب آباء تیرے پاک ہے شرکوں نسب تیرا
نہیں گزاری کسی نے زندگی بسر ہوئی جیسے حیات تیری
میرے نبی کی عنائتوں کا کوئی جواب نہیں حساب نہیں
تیرا حسن و جمال دیکھنے کی کسی بشر میں تاب نہیں
موجود ہیں آپ امت میں ہوتا عاصیوں پر عذاب نہیں
اجڑے ہوئے دل سنور گئے اس سے بڑا انقلاب نہیں
بعد خدا سب سے زیادہ ہیں کمالات تیرے صفات تیری
مل گیا سرور کونین تجھے دائی حلیمہ زہے نصیب تیرے
نزدیک ہوئی گھر آمنہ کے رحمت رب ہوئی قریب تیرے
آمد رسول کی برکتوں سے بدل گئے حالات غریب تیرے
نہیں آئیں گی یہاں پریشانیاں رہتے ہیں گھر طبیب تیرے
خوش بخت ہے جہاں میں بڑھائی محبوب نے اوقات تیری
کام آئیں گی نہ نمازیں الفت نبی گر شامل نہیں
بغض رکھے اہلبیت سے جنت جانے کے قابل نہیں
ہے جسے صحابہ سے عداوت ایمان اس کا کامل نہیں
محبوب نہیں محبوب خدا تو عبادتوں سے کچھ حاصل نہیں
میلاد منا صدیق ؔ سیرت اپنا اسی میں ہے نجات تیری
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






