جہانِ سوز کی صدا ہونا اچھا لگا
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadجہانِ سوز کی صدا ہونا اچھا لگا
میرےہونے سے نا ہونا اچھا لگا
لفظ کی صورت تیرے لب سے
میرے نام کا ادا ہونا اچھا لگا
حصولِ وصل کی راحت کے لئے
منزل نہ سہی راستہ ہونا اچھا لگا
زہے نصیب آج بھی میرے لئے
تیرے لب پہ دعا ہونا اچھا لگا
میری زیست کے ہر لمحے کا
تیری ذات پہ فدا ہونا اچھا لگا
اذیتیں اور بھی ہیں، دل میں مگر
بس اک درد تیرا ہونا اچھا لگا
تو نے کہہ جو دیا تھا ہنستے ہوئے
بے وفا ،تو بے وفا ہونا اچھا لگا
مشہور ہے چارہ گری اس کی
یہ سن کربے آسرا ہونا اچھا لگا
تاریک شب کی تنہائی میں
تیری یاد کا سلسلہ ہونا اچھا لگا
روز نیا عزم ، نیاجنونِ عہد ِ وفا
حسبِ معمول نہ نبھا ہونا اچھا لگا
عارضہ ء دل بڑھتا رہا، مگرتیری
الفت سے یابِ شفا ہونا اچھا لگا
کسی سُرمئی شام کی بارش میں
کھڑکی میں کھڑا ہونا اچھا لگا
دوگام چلنا بھی گراں ہوا مجھ پہ
تیری آنکھ میں سجاہونا اچھا لگا
مناتا ہے اِس ادا سے رضا وہ
کہ بات بے بات خفا ہونا اچھا لگا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






