جوابِ شکوہ
Poet: ڈاکٹر شاکرہ نندنی By: ڈاکٹر شاکرہ نندنی, Portoتو کہتا ہے خواب گرے، ساز بجے نہ نغمہ بنے
کیا ساز تیرے ہاتھ میں تھا؟ یا تُو خود ہی بے دَم بنے؟
تو چاہتا تھا بہار چلے، اور زخم بھی نہ لگیں تجھے،
پھر کس نے تجھے یہ بتایا کہ گلزار میں کانٹے نہیں؟
دنیا کو تو نے سمجھا کیا؟ ایک ہنسی کا میدان فقط؟
یہ کائنات ہے کرب کا فن، یہ زندگی ہے ایک فنونِ ضبط۔
تو مانگتا ہے روشنی، پر تیری آنکھ بند رہی،
تُو خود گُم صُم تھا اندر سے، باقی دنیا کب خواب بنی؟
وہ وقت کہ تُو جلتا تھا، اک جذبہ، اک آگ سا
اب تو فقط سائے میں ہے، اک زرد، بجھا چراغ سا
فطرت کبھی خاموش نہیں، تُو ہی سن نہ سکا صدا
پتوں میں، پانی میں، ہَوا میں، ہر شے میں بولا تھا خدا
وقت نے تجھ کو موقع دیا، ہر موڑ پہ راستے رکھے
تُو بھٹک کے کہتا ہے اب، کہ میرے خواب چھینے گئے؟
سچ تو یہ ہے، اے درد کے شاعر! تُو خود سے ناراض ہے
آئینے سے شکوہ کرتا ہے، جب چہرہ بے ناز ہے
تُو چاہتا ہے دنیا بدلے، اور تُو نہ بدلے ایک ذرا
یہ فطرت کا قانون نہیں، یہ ضد ہے، یا خوابِ سرا؟
ہر شے سے پہلے خود کو بنا، وہ روشنی، وہ راز بن
پھر دیکھ تیری سانسوں میں، کیسے بجتا ساز بن
یہ وقت بھی تیرے ہاتھوں میں ہے، یہ فطرت بھی تیری دوست
مگر شرط ہے: تُو جاگے، تُو بنے اک نیا شعور، اک نیا جوش
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






