جل پری
Poet: عرشیہ ھاشمی By: arshiya hashmi, islamabadحیا تھی شبنموہ خشک راتوں میں اک نمی تھی
وہ میری پیاری سی جل پری تھی
بہار جوبن پہ جب بھی آئے
تو کھلے گلوں سے مہک چرائے
جہاں میں رقصاںگلوں پہ نازاں
جو سات رنگ کی تتلی تھی
وہ پیارے سے دل کی جل پری تھی١
ہنسی تھی اسکی
کہ جیسے جھرنا کوئی پہاڑوں میں بہتا جائے
وہ خوب صورت وہ خوب سیرت
پری لگے جب بھی مسکرائے
صبح سویرے کی نرم شبنم
وہ چاند راتوں کی چاندنی تھی
وہ پیارے سے دل کی جل پری تھی١
کبھی جو مجھ سے خفا بھی ہوتی
تو یہ ہی اکثر کہاتھی کرتی
کہ دیکھو مجھ سے دغا نہ کرنا
میرا بھروسہ کبھی بھی ٹوٹے
کبھی بھی ایسا کبھی نہ کرنا
میری سکھی تھی
جو مجھ کو اپنی سی لگ رہی تھی
وہ پیارے سے دل کی جل پری تھی
یہ دوستی ایسا تحفہ رب کا
نہیں خدا نی دیا سبھی کو
سنبھال رکھو اجال رکھو
کہ قیمتی ہے
پری کی عرشی سے دوستی ہے
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL







