تڑپنا دیکھا

Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Karachi

تڑپنا دیکھا
جلتا دیکھا
خود کو پل پل مرتے دیکھا
زندگی کو دور جاتے دیکھا
وقت کو سرکتے دیکھا
درد کو بڑھتے دیکھا
خوشیوں کو روٹھتے دیکھا
آنسوؤں میں کسی کے
خود کو ڈوبتے اُبھرتے دیکھا
ہم نے د رد کو جیت تے دیکھ
خود کو ہر بازی ہارتے دیکھا
پھر بھی سانسیں چل رہی ہیں
زندگی بے سبب چل رہی ہے
یادوں میں سمٹ رہی ہے
نئے رشتوں میں بدل رہی ہے
شاید جینا اسی کا نام ہے
شاید روح سے جسم کا رشتہ
جب تک باقی ہے
مجھے یونہی جینا ہے
اس زہر کو پینا ہے
مانا سفر مشکل ہے
مانا تنہا ہی چلنا ہے
مانا زادِ راہ کچھ بھی نہیں
پھر بھی ہمت خود کی بندھانا ہے
مجھے اپنے انجام تک یونہی رہنا ہے
مجھے جینا ہے

Rate it:
Views: 552
17 Sep, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL