تو اپنی خوبیاں ڈھونڈ

Poet: ریما خان By: ریما خان, Quetta

تو اپنی خوبیاں ڈھونڈ
خامیاں بتانے کے لیے لوگ ہیں نا

اگر رکھنا ہی ہے قدم تو آگے رکھ
پیچھے کھینچنے کے لیے لوگ ہیں نا

سپنے دیکھنے ہیں تو اونچے دیکھ
نیچا دکھانے کے لیے لوگ ہیں نا

اپنے اندر جنون کی چنگاری بھڑکا
جلنے کے لیے لوگ ہیں نا

اگر بنانی ہے تو یادیں بنا
باتیں بنانے کے لیے لوگ ہیں نا

پیار کرنا ہے تو خود سے کر
دشمنی کرنے کے لئے لوگ ہیں نا۔۔

اگر رہنا ہے تو بچہ بن کر رہ
سمجھدار بنانے کے لئے لوگ ہیں نا۔۔

بھروسہ رکھنا ہے تو خود پر رکھ
شک کرنے کے لئے لوگ ہیں نا

تو بس سنوار لے خود کو
آئینہ دکھانے کے لئے لوگ ہیں نا

خود کی الگ ایک پہچان بنا
بھیڑ میں چلنے کے لئے لوگ ہیں نا

Rate it:
Views: 3744
16 Sep, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL