تنہائی کی گلی میں ہواؤں کا شور تھا

Poet: Kafeel By: zeeshan, Lahore

تنہائی کی گلی میں ہواؤں کا شور تھا

آنکھوں میں سو رہا تھا اندھیرا تھکا ہوا

سینے میں جیسے تیر سا پیوست ہو گیا

تھا کتنا دل خراش اداسی کا قہقہہ

یوں بھی ہوا کہ شہر کی سڑکوں پہ بارہا

ہر شخص سے میں اپنا پتہ پوچھتا پھرا

برسوں سے چل رہا ہے کوئی میرے ساتھ ساتھ

ہے کون شخص اس سے میں اک بار پوچھتا

دل میں اتر کے بجھ گئی یادوں کی چاندنی

آنکھوں میں انتظار کا سورج پگھل گیا

چھوڑی ہے ان کی چاہ تو اب لگ رہا ہے یوں

جیسے میں اتنے روز اندھیروں میں قید تھا

میں نے ذرا سی بات کہی تھی مذاق میں

تم نے ذرا سی بات کو اتنا بڑھا لیا

کمرے میں پھیلتا رہا سگریٹ کا دھواں

میں بند کھڑکیوں کی طرف دیکھتا رہا

آزرؔ یہ کس کی سمت بڑھے جا رہے ہیں لوگ

اس شہر میں تو میرے سوا کوئی بھی نہ تھا

Rate it:
Views: 4797
14 Jan, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL