تمہاری یہ حسد کی آگ اور میں جلاؤں گا
Poet: محمد فہیم الدین نادر عمری By: محمد فہیم الدین نادر عمری, GULBARGAتمہاری یہ حسد کی آگ اور میں جلاؤں گا
اے دشمنو ! میں دشمنی کا رشتہ بھی نبھاؤں گا
جو الفتوں کا تحفہ میرا ٹھکرا ہی دیاعبث
میں اس کے دل میں بھی ضرور کچھ جگہ بناؤں گا
مری شکست کا جو خواب دیکھتے ہیں ہر گھڑی
انہیں کے ساتھ جشن کامیابی کا مناؤں گا
مجھے پَتا ہے راستہ بڑا ہی پُر خطر ہے یہ
دعاؤں اور کوششوں سے سہل سب بناؤں گا
اے شر پسندو ! چاہتوں سے کیا ہُواہے اب تلک
تمہاری شر پسند چاہتوں کو میں رُلاؤں گا
الہی تیری نصرت و مدد مجھے بھی چاہیے
زمانے کو میں اِک نئی کہانی بھی سناؤں گا
اے دُشمنو ! تمہاری دشمنی بھی کام آگئی
اِسی بہانے حوصلہ میں اور کچھ بڑھاؤں گا
کہیں یہ ٹھوکریں کسی کی جاں نہ لیں اسی لئے
میں راستے میں یہ گِرا ہُوا حَجر ہٹاؤں گا
فہیمؔ دشمنی کبھی کسی کی ٹھیک ہی نہیں
اسی لئے میں دُشمنوں کو دوست بھی بناؤں گا
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






