تلاش
Poet: MUHAMMAD IKRAM By: MUHAMMAD IKRAM, SHAHADRA LAHOREدنیا تیرے وجود کو کرتی رہی تلاش اکرام
ہم نے تیرے خیال کو محبت بنا لیا
ہم تو اپنی تنہائیوں سے تنگ آکر محبت کی تلاش میں نکلے تھے اکرام
مجھے تو محبت بھی ایسی ملی جو اور تنہا کر گئی
گھر بنا کے میرے دل میں وہ چھوڑ گیا اکرام
نہ خود رہتا ہے نہ کسی اور کو بسنے دیتا ہے تنہا اکرام
میں جب ڈوبا تو سمندر کو بھی حیرت ہوئی مجھ پر اکرام
عجیب شخص ہے کسی کو پکارتا ہی نہیں
کون دیوانہ ہنستا ہے رونے کے بعد
جینا پھر بھی پڑتا ہے سب کچھ کھونے کے بعد
سوچا آج دوستوں سے معافی مانگ لوں اکرام
شاید پھر میری صبح نہ آئے آج سونے کے بعد
مجھ سے اکثر وہ ایک ہی سوال پوچھتا ہے
تم مجھے اتنا پیار کیوں کرتے ہو
کوئی جا کر بتا دے اس کو اکرام
زندگی کس کو پیاری نہیں ہوتی
ہوا کے رُخ پہ جلتا ہے چراغ آرزو اب تک
دل برباد میں اب بھی اکرام کی یاد باقی ہے
دل کے دروازے ہمشہ کھلے رکھنا اکرام
کچھ لوگ دستک کے عادی نہیں ہوتے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






