بے شک
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, Gujranwala لاپرواہ ہو جانا ، میرے جذبوں کی
سچائی کے باوجود
بے شک بھنور میں اکیلا چھوڑ دینا
خود کشتی کے سوار رہنا
بے شک میرا ہو کے کسی اور کو چاہنا
بے شک گھنے پیڑوں کی چھاؤں میں
خود بیٹھنا
مجھے جھلستی دھوپ میں تنہاچھوڑ دینا
بے شک طوفانوں کی تند تیز موجوں کے
مجھے روبرو کر کے خود ہٹ جانا
بے شک زمانے کی گردش ایام میں
پسنے دین
بے شک میرے احساسات کو پامال کر دینا
بے شک میری اطاعت کے باوجود تم
سرد مہر بن جان
بے شک محبتوں کی قیمت وصول کرنا
اور خود غرض ہو جان
بے شک میرے دل کو اپنی جفاؤں کے
صدمے سے پاش پاش کر دین
بے شک میری التجاؤں کو ٹھکرا دینا
رشتوں کی بھینٹ چڑھنے دین
بے شک اپنے قدموں کی خاک بنا کر
روند ڈالنا، بے نشان کر دین
بے شک اپنی بے اعتنائیوں سے میری
ذات کو ریزہ ریزہ کر دین
بے شک کرب و الم کی بھٹی میں
جھونک دین
مگر! سن اے جان شاہین
میرے الفاظ کے تقدس کو پامال مت کرن
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






