بے ثباتی
Poet: رفیع خان By: Rafi khan, Peshawarذرا ایک بار پھر سے دیکھو
بے کراں آسمان کی وسعتوں میں
ظلمت شب کے ہاتھوں بجھتے ستارے
زندگی کی بے ثباتی کا احساس جگا رہے ہیں
اور بتا رہے ہیں کہ ہم
جو ایک دوسرے کو بے انتہا چاہتے ہیں
انقریب ایک دوسرے کو کھو دیں گے
میں سوچتا ہوں
ہماری غیر موجودگی میں یہ دنیا کیسی لگی گی
کرہ ارض پر یہ ہمارا پہلا اور آخری جنم ہے
یہ حقیقت
زندگی تمہارے ساتھ جینے کے لئے ناکافی ہے
یہ بھی ایک حقیقت ہے
لیکن اس سے بھی کربناک حقیقت یہ ہے کہ
ہم مرجائیں گے اور پھر کبھی نہ مل پائیں گے
تو پھر کچھ بھی سوچے بغیر، تھام لو میرا ہاتھ
اور لے چلو مجھے کسی پرسکون رستے پر
جہاں کچھ دیر کے لیے ہی سہی
ہم ایک دوسرے کی موجودگی کے احساس سے لطف اندوز ہوسکیں
لے چلو مجھے تخیل کے پار ، محبتوں کی اس دنیا میں
جہاں ہم لمحوں میں صدیوں کی خوشیاں سمیٹ سکیں
اے میرے وجود کے گم شدہ حصے
میں زندگی کے سب سے حسین لمحے میں
تمہاری روح میں تحلیل ہوکر مرنا چاہوں گا
اور یہی ابدیت ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






