بھکاری لوگ تھے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaہم نے اپنی زندگی جن میں گزاری، لوگ تھے
حوصلہ بھی تھے مگر، اوساں پہ طاری لوگ تھے
ہم چُنا کرتے تھے جن کے واسطے اُلفت گلاب
کیا دیا بدلہ، فقط آنسو۔ بھکاری لوگ تھے
آپ نے اچھا کیا جو آج اپنایا ہمیں
بیچ دینا تھا کہ سب کے سب جواری لوگ تھے
ہم کہ سادہ لوح تھے قرآن کو چوما کیے
اور قرآں بیچ کھایا ہے، وہ قاری لوگ تھے
اپنے آبا کی شجاعت کے فسانے یاد ہیں؟
جب کبھی لڑتے تو یہ سو سو پہ بھاری لوگ تھے
ان کی محنت سے ہی سرداروں کا سرداری نظام
خود رہے چھپّر میں بھوکے پیٹ، ہاری لوگ تھے
آج گاڑی ہے مگر جانا گوارا ہی نہیں
سب کے گھر جاتے تھے جب ہم بے سواری لوگ تھے
اپنے بچوں کے لیئے روزی کمانی تھی انہیں
لوگ جو کرتے تھے دن بھر جان ماری۔ لوگ تھے
ڈوب کر قاتل ندی میں دو جواں حسرتؔ مرے
مچھلیوں کے شوق میں آئے شکاری لوگ تھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






