بھکارن

Poet: Mohsin Naqvi By: Wajid Imran, Pirmahal

اِک بھکارن
شہر کے مصروف چوراہے کی اندھی بھیڑ میں
اپنے فاقوں سے اَٹی خواہش کی ضد پر
بیچنے آئی ہے
اپنی نوجوانی کا غُرور
توڑنے آئی ہے بے صُورت اَنا کے آیئنے
بے حنا ہاتھوں میں پھیلائے ہوئے
بس چند لمحے زندہ رہنے کا سوال
چند لمحے جن کا ماضی ہے نہ حال
آنکھ میں بجھتی ہوئی اِک موجِ نُور
تن پہ لپٹے چیتھڑوں کی سِلوٹوں میں
سانس لیتے واہمے
دَم توڑتا احساس ، لَو دیتا شُعور
زندگی کے دو کنارے۔۔۔۔۔چار سُو
اک طرف ہنگامئہ ہوس۔۔۔اِک سَمت ہُو
کس قدر مہنگی ہیں، باسی روٹیاں
کتنی سستی ہے ، متاعِ آبرو
اے خُدائے ، کاخ و کُو

Rate it:
Views: 589
25 Aug, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL