اک یادوں کا سفر اک یادوں کا غم
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIاک یادوں کا سفر اک یادوں کا غم
ہے اندھیرا بہت اور آنکھیں بھی نم
ہم ڈھونڈنے کسی کو نکلے مگر
ہم کو پھر مل گیا ادھورا ہمسفر
جس میں کھوئے تو ہم کو ایسا لگا
جیسے قسمت کو پھر ہم نے پالیا
پھر اس میں بھی اک ادا آگئی
کیا بتائیں کہ لب پہ دعا آگئی
یا خدایا وہ ہم سے ہوں نہ جدا
ہم سے اک بار پھر ہو گئی ہے خطا
اس محبت نے ہم سے کیا یہ بھلا
پہلے زخموں پہ دی اک مرہم لگا
یہ دل و جان پھر اسی کے ہو گئے
سبھی لمحے اس کی جستجو میں کھو گئے
پھر اس کی محبت میں افسانے لکھے
لمحے بھر کی مسافت میں زمانے لکھے
اک دن مجھ سے وہ کہنے لگا
تم دل میں ہو میرے رہنے لگے
میں تو مسافر ہوں میری ہے منزل جدا
میں نے بتایا نہیں تھا کہ تو ہوگا خفا
یہ سبھی سن کے میں بے زبان ہو گیا
میں کہاں سے نکل کر کہاں کھو گیا
ٹوٹ گئے میری سب امیدوں کے بھرم
یہ محبت کا دیا ہے خوشی ہے یا غم
اک یادوں کا سفر اک یادوں کا غم
ہے اندھیرا بہت اور آنکھیں بھی نم
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







