اک قہر تھا جو آکے گزر گیا
Poet: By: Muhammad Saleem Qadri, Karachiصف ماتم ہے ہرگھرمیں کسی کو کسی کا احساس نہیں
کوئی یتیم ہو گیا تو کسی کا بیٹا پاس نہیں
اک چنگاری نے کتنے گلشن جلا ڈالے
یہ کیسی آگ تھی جس نے جلتے چولہے بجا ڈالے
کسی کا مل گیا اور کسی کا پیارا ملا نہیں
غریب ناتواں ہیں ہمیں کسی سے گلہ نہیں
سالگرہ ہے بیٹے کی میرے آنے تک نہیں سوئے گا
کیا معلوم تھا یہ میت سے لپٹ کے روئے گا
ہے انتظار ماں کا وہ ابھی آئے گی
چاہت سے پیار سے مجھے روٹی کھلائے گی
خوشی کتنوں کی عالم سوگ میں بدل گئی
بھیانک آگ تھی زندہ انسانوں کو نگل گئی
مجبوروں کا لاچاروں کا کون سہارا بنے گا
بگڑا مقدر ناجانے کب دوبارہ بنے گا
ہنستا بستا گلشن کیسے بکھر گیا
اک قہر تھا جو آکے گزر گیا
اب تو اٹھو اپنے ذہنوں کو اک نئی سوچ دو
بڑھ کر آگے غمزدوں کے آنسو ہی پونچھ دو
جاگا لو ضمیر پھر اسے کبھی سلانا نہیں
خود کو بھول جانا اس سانحہ کو بھولانا نہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






