اک طوائف کی فریاد

Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.A

ہم کو تو سر شام تماشا ناں بناؤ
نوچے ہوئے جسموں پہ میلہ ناں لگاؤ

ہر رات دروازے پہ دستک ہیں یہ دیتے
بڑھتے ہوئے ہاتھوں کو ذرا کاٹ کے لاؤ

جس راہ پہ چلے رند سبھی اس کو اپنائیں
جاتے ہوئے قدموں کے نشا نوں کو مٹاؤ

ہر شب اک دائرے میں یہ جسم ھوا قید
کب پائیں گے رہائی کوئی ہم کو یہ بتاؤ

بازار میں رکھے چہروں پہ ان گنت نگاہیں
ان آنکھوں کی ہوس کو ذرا آئینہ تو دکھاؤ

ہر رات ہیں مرتے جی اٹھتے ہیں صبح کو
ان جلتی ہوئی لاشوں کو دیواروں پہ سجاؤ

اس قفس کی تنہائی میں کوئی آنسو نہ دیکھے
جلتی ہوئی شمع کو ذرا کچھ دیر بجھاؤ

نوچتے ہیں یہ جسموں کو کسی گدھ کی مانند
بکھرے ہوئے ان ٹکڑوں زرا زمین میں دباؤ

کوئی تو اس سر کو آنچل سے ڈھکے گا
دو گھر کی اک چھت دیواریں ناں گراؤ

Rate it:
Views: 1615
29 Apr, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL