اپنوں کے ملبوس میں جذبوں کے خریداروں نے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, islamabadاپنوں کے ملبوس میں جذبوں کے خریداروں نے
مجھے راستے کا پتھر کیا میرے غمگُساروں نے
آشنائی نہیں تھی مجھے مزاجِ آتش ِعشق سے
دل کو ہی جلا دیا میرے، اُلفت کے شراروں نے
تُو نے بھی اِسی سوچ میں ہر ظُلم روا رکھا مجھ پر
کہاں جانا ہے تیری محفل سے درد کے ماروں نے
عہد ِوفا چاہتے ہیں سر ِراہ چھوڑ کے جانے والے
نایاب محبت کو رُسوا کیا ہے دُہرے میعاروں نے
حوصلہ ہی نہیں دل میں راہِ دُشوار پہ چلنے کا
کبھی پاؤں پہ کھڑا ہونے دیا نہیں سہاروں نے
گُل وخُوشبو سے اِکبار میرے در و بام مزیّن کر کے
کیوں رُخ موڑ لیے میرے گُلشن سے بہاروں نے
ہمیں شمار کرتے ہو یا گِنتے ہو دُکھ درد اپنے
فرط ِحیرت سے مجھے پُوچھا شبِ ہجر کے تاروں نے
دل کو بھلا لگتا تھا لہروں کی آغوش میں رہنا
ساحل کی طرف آیا تو مجھے روک لیا کناروں نے
میری جیت کہیں رُخِ یار کا تبسم ہی نہ لے اُڑے
ڈر سے رِشتہ بنا رکھا ہے مجھ سے میری ہاروں نے
اب کے جاں لے لو یا عطا کر دو اُلفت کا سائباں
اور کیا مانگنا ہے رضا بے یارو مددگاروں نے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






