انسان
Poet: شمامہ حق By: شمامہ حق, Karorpakkaحضرت انسان
الله کی بہترین مخلوقات میں سے ایک
جسے مہارت حاصل ہے
اپنے ہی جیسے انسان کے بارے میں
مفروضے قائم کرنے میں
یہ جانے بغیر کہ وہ
کتنی سمتوں کا سفر کر چکا ہے
کیسے وقت کی دقت کو کاٹ چکا ہے
اور
کتنے طوفان اس پرسکون ساحل کے پیچھے چھپے ہیں
ایک جذباتی سہارا
جو بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے
اس کی کمی کن مصیبتوں کو دعوت دے سکتی ہے
نہیں جانتا کوئی
صرف ایک ہاتھ
درد کی دلدل سے نکالنے کو کافی ہوتا ہے
مگر انسان نے اپنے ہاتھوں کو
محدود کر دیا ہے
فقط سکرینوں تک
برقی رو کے ذریعے بھیجا گیا پیغام
زیادہ وقعت رکھتا ہے
بنسبت اس کے
جو دل کے تاروں سے بھیجا گیا ہو
وقت سے برکت اٹھائی جا چکی ہے
اور دلوں سے سکون
اندازے لگانے میں ماہر لوگ
حقیقت کو پرکھنے کی ہمت نہیں رکھتے
جو نظر میں آیا وہی ذہن میں بٹھا لیا
مگر تم نے کبھی غور کیا ہو تو
آئینے میں عکس ہمیشہ الٹا دکھائی دیتا ہے
آنکھیں روح کی کھڑکیاں ہیں
اور دل کا بھید عیاں کرنے پر مامور ہیں
لیکن
بڑی عزت کے ساتھ
کہ راز صرف اسی پہ کھولا جائے گا جو جاننے کی جستجو کرتا ہو
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






