الوداع کہنے کو دل نہیں مانتا
Poet: Roshni By: Roshni, Islamabadپہلے دن ملے تھے انجان تھے جو
آج ایک دوسرے کی جان ہو گئے
کبھی سوچتے تھے چار لیکچر گزریں گے کیسے
نہ جانے کب یہاں دو سال پورے ہوگئے
سکھ، دکھ ،اچھا ،برا سب منا رہے تھےساتھ
کلاس میں سبھی کے ساتھ کرتے تھے ہنسیو مذاق
لڑتے تھے جھگڑتے تھے دن یوں کٹتے تھے
لیکچر سے بھاگ بھاگ کر کیفے میں ملتے تھے
آج سوچتے ہیں کیوں اتنے دن گزر گئے
کچھ سیکھنے کی دوڑ میں اتنا آگے نکل گئے
جب آئے تھے کچھ بھی نہیں تھا ہمارے ہاتھ
جاتے جاتے یادوں کی بارات لے کے جائیں گے
یہ ہے وہ گھڑی جسے جدائی کہتے ہیں سبھی
پر الوداع کہنے کو دل نہیں مانتا ،پر الوداع کہنے کو دل نہیں مانتا
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






