افسوس

Poet: Aslam Jalali By: Aslam Jalali, Karachi

ہجوم دیکھ کر سند رہبری دیدی گئی انہیں
اٹھنے لگی ہر گھرسے جواں میت تو معلوم ہوا

ساحلوں پرلوگ محل بنا تے رہے شوق سے
پانی دریا کا پہنچا سمندر تک تو معلوم ہوا

بچوں نے چھین لی منصفی سر پرستوںسے
ختم ہوگئی گھر کی ہر برکت تو معلوم ہوا

پزیرائی ہونے لگی اغیار کی تہذیبوں کی
بزرگ ہونے لگے رخصت تو معلوم ہوا

شہروں میں جاکر کہلانے تو لگے معزز شہر
سوکھنےلگے گائوں کے درخت تو معلوم ہوا

معیار بدل گئے سب خاندانوں کوپرکھنے کے
پھیل گئی گھر گھر جب نفرت تو معلوم ہوا

کھل گئے ہیں دروازے کم ظرفوں کے لئے
لٹنے لگی جب پرکھوں کی وراثت تو معلوم ہوا

Rate it:
Views: 737
17 Oct, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL