اسے اجازت ہے جی بھر کے الجھاۓ مجھے!!!
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستاناسے اجازت ہے جی بھر کے الجھاۓ مجھے
شرط یہ ہے کہ پھر وہی سلجھاۓ مجھے
جھیل سی آنکھوں میں ڈوب جانے دے کبھی وہ
ادھورے لفظوں کے معنی بھی سمجھاۓ مجھے
ہم کہ زمانے کے اصولوں سے سدا کے باغی
اہل دل کے دساتیر کوئی پڑھاۓ مجھے
مان لے میری یا پھر منوا لے اپنی
شہنشاہوں کی طرح مقابل میں گراۓ مجھے
اب کون محبت میں بادۓ صباء ڈھونڈے
طوفان ء باد و باراں ہر سو ہیں ستاۓ مجھے
جانتا ہو گر وہ میرے جزبوں کی حقیقت
لازم ہے کہ فقط پھر نبھاۓ مجھے
وہ ملے مجھ سے میرے عکس کی صورت
سنے میری اور اپنی سناۓ مجھے
گزر نہ جائیں جاں سے ہی کہیں ہم
شوق میں اتنا بھی نہ آزماۓ مجھے
حرف ء دعا کی طرح میرے لب پہ ٹھہرنے والا
اپنے دست ء دعا میں بھی کبھی ٹھہراۓ مجھے
محبت گر تجارت ہے تو کرے سودا گری بھی
میری وفاؤں کے بھی ذرا دام بتاۓ مجھے
ہمیں منظور ہے عنبر ترک ء تعلق بھی
جینا اپنے بنا مگر سکھاۓ مجھے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






