ادھوری ملاقات
Poet: RANA ASHFAQ QAISER By: rana ashfaq qaiser, alluwali/mianwaliہم تھے محو سفر آمنے سامنے
ملی نطر سے نطر آمنے سامنے
تھی انتہائی محبت تیری آنکھ میں
تیری صورت بسی تھی میری آنکھ میں
تیری آنکھوں میں جذبات تھے موجزن
میرے احساس میں بھی تیری لگن
تیرا ناطریں ملانا چرانا کبھی
دھیرے دھیرے میرا مسکرانا کبھی
نام لکھ کر ہتھیلی پہ یہ سوچنا
دیکھ لے نا کوئی زیرے لب بولنا
ہاتھ ملنا کبھی بے بسی میں تیرا
سر پکڑ کر پریشان ھونا میرا
کیسے اک دوسرے سے کوئی بات ہو
پھر نہ شاید ہماری ملاقات ہو
ایک عمدہ نشانی تیرے ساتھ کی
وہ پیاری انگوٹھی تیرے ہاتھ کی
تم سے بچھڑے ہوے ایک مدت ہوئی
محو دل سےتمھاری نہ چاہت ہوئی
تھی تمنا جو دل کی نہ پوری ہوئی
اک ملاقات تھی جو ادھوری ہوئی
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






