اتارے گئے
Poet: Rasheed Hasrat By: rasheed Hasrat, Quettaتھے کہاں کے، کہاں پر اُتارے گئے
کھینچ کر ہم زمِیں پر جو مارے گئے
جو اُتارے گئے تھے ہمارے لِیئے
سب کے سب چاند، سُورج، سِتارے گئے
ناؤ احساس کی ڈگمگا سی گئی
اور ہاتھوں سے ندیا کے دھارے گئے
عِشق لِپٹا ہی سارا خساروں میں ہے
فائدہ کیا ہُؤا گر خسارے گئے
اور کُچھ بھی تو ہم سے نہِیں بن پڑا
اپنے ارماں کے سر ہی اتارے گئے
جو عقِیدت کے اپنےدِلوں میں رہے
سِلسِلے وہ ہمارے تُمہارے گئے
عاشِقوں کے لِیئے ہم ہُوۓ سربکف
موت کے منہ میں جتنے بھی سارے گئے
یاد آئیں تو آنسُو چھلکنے لگیں
وہ زمانے کہ تُجھ بِن گزارے گئے
آگ کا ایک دریا ہے کرنا عُبُور
اور حسرتؔ یہ بازی جو ہارے، گئے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






