اب خود کو تلاش کروں میں کہا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaبہت الجھ گئی ہوں اپنی ہی سوچوں میں
اب خود کو تلاش کروں میں کہا
یوں تو ہیں ہزاروں خواہشیں مگر
اپنے دل کی خواہش کو تلاش کروں میں کہا
جو سنسان راستے میں تنہا چھوڑ گیا
ُاسے بھری دنیا میں تلاش کروں میں کہا
میری زندگی ہی میری دشمن بن گئی
اب موت سہلیی کو تلاش کروں میں کہا
یوں تو ہیں ہزاروں دعاویں مگر
جو قبول ہو ایسی دعا کو تلاش کروں میں کہا
اس دنیا سے تو دل بھر گیا ہیں میرا جہاں سے کبھی
جی نا بھرے ایسے جہاں کو تلاش کروں میں کہا
یوں تو خود کو کب کا ختم کر دیا ہیں مگر
اب بھلا جینے کے لیے راہوں کو تلاش کروں میں کہا
جہاں نا کوئی میری طرح زندہ ہو اور نا ہی مردہ ہو
میں اپنے لیے ایسی قبر کو تلاش کروں میں کہا
اب تو سجدوں میں بھی سکون نہیں ملتا
میں اپنے لیے سکون قلب کو تلاش کروں میں کہا
جس پھول کے ساتھ کوئی کانٹا نہ ہو لکی
میں ایسے پھول کو تلاش کروں میں کہا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






