اب اور جینا نہیں ہے
Poet: NS By: NS, Lahoreزہر زندگی کا پینا نہیں
مجھے اب اور جینا نہیں
اے خوشیوں مجھ سے دور ہی رہا کرو
کہ اب مجھے اور غم زدہ ہونا نہیں
اے غموں اپنا سایہ پھیلائے رکھو
کہ خوشیوں کے بادل پر
میرا بسیرا نہیں
میں جانتی ہوں میرے اپنے
مجھے چاہتے ہیں
یوں مجھے دکھ دینا
ان کا مقصد نہیں
دکھ ہمیں خوشیوں کا احساس دلاتے ہیں
ہر دکھ کا مقصد درد دینا نہیں
میں تم سے دور رہ کر جینا چاہتی ہوں
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں
کہ مجھے تم سے پیار نہیں
کیوں ہاتھوں کی لکیروں سے الجھوں میں
جب ان میں اپنا ملن
لکھا ہی نہیں
میں اس لیے بھی حد سے زیادہ
خوش ہوتی نہیں
کیونکہ خوشی مجھے کوئی
راس آتی ہی نہیں
سب کچھ جانتے ہوئے بھی
میں ایسے راستے پر چلنا چاہتی ہوں
جس کی کوئی منزل ہی نہیں
کبھی کبھی مجھے ایسا کیوں لگتا ہے
کہ تو میرے ساتھ ہو کر بھی ساتھ نہیں
بھول تو خیر اک دن تم نے بھی جانا ہے
پہلے سب ہی کہتے ہیں
نہیں میری جان ایسا نہیں
دل کی دھڑکن رک کیوں نہیں جاتی
جب جینے کی کوئی آس ہی نہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






