آیا جو اس کے لب پہ میرا نام بہت رویا
Poet: Abdul Waheed Sajid By: Abdul Waheed Ghori, DUNYA PUR, DISTRICT LODHRANآیا جو اس کے لب پہ میرا نام بہت رویا
اک شخص میری یاد میں کل شام بہت رویا
جو مڑ کے کبھی میری طرف دیکھتا نہ تھا
میرے ذکر پہ وہ آج دل تھام بہت رویا
وہ بھی یہ سمجھتا تھا جی لے گا میرے بغیر
آیا نہ کہیں اسکو بھی آرام بہت رویا
خود بیوفا تھا مجھ کو بھی کہتا تھا بے وفا
آیا جو اس کے سر کوئی الزام بہت رویا
لکھا تھا اس کو میں نے سدا مسکراتے رہنا
تنہائی میں پڑھ کے میرا پیغام بہت رویا
مجھ سے روٹھ کر گیا تو کسی کا نہ ہو سکا
جب کھو چکا خود اپنا ہی مقام بہت رویا
شاید اسے محسوس ہوئی تھی میری کمی
وہ مجھ کو ڈھونڈتا ہوا ہر گام بہت رویا
اس ہجر میں وہ رات کی نیندوں کو گنوا کر
سوچا کبھی جو عشق کا انجام بہت رویا
اپنوں کو سمجھتا تھا جو شودر کے برابر
غیروں کے ساتھ ہو کے بدنام بہت رویا
قسمیں جو کھاتا تھا مجھے دل سے بھلانے کی
ہوا مجھ کو بھلانے میں جب ناکام بہت رویا
آنکھ اسکی بھر آئی تھی نجانے کس لئے؟
ہاتھوں سے اس کے ٹوٹا کوئی جام بہت رویا
پوچھا کسی نے اس سے تم چاہتے ہو کس کو؟
وہ لیکے میرا نام سرعام بہت رویا
ساجد کے بنا اکثر جو ہنستا کبھی نہ تھا
سنسان دیکھا اپنا دروبام بہت رویا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







