آنکھوں دیکھ کر پیا ہے زہر عمر بھر
Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujratآنکھوں دیکھ کر پیا ہے زہر عمر بھر
رقیبوں نے سمجھایا پھر بتلایا بھی
رنگ با انواع سے بد است وہ لڑکی
ہر اک آشنا اسکا من دیده ام بھی
کیوں قاثر ہے شناخت سے میرا قلب
تمام شب غیر کی بانہوں اسے دیکھا بھی
رابط دل ہے کہ ابھی تک قائم تجھ سے
زبان هر فرد سے تیرا کردار سنا بھی
مہنگے ملابس میں کب تک چھپاو گے باطن
ایسے ہونے سے أفضل ہے تیرا نہ ہونا بھی
تیری خصلت میں تغییر جھوٹی ہے بات
بے فائدہ ہے هر لحظه تم پہ مرنا بھی
بدون زمان ایسا کہ تجھے یاد نہ کیا ہو
بدن چور زخموں سے جینا ہے اجباری بھی
کب تک رکھوں گا سلجھا کر تیری تصویریں
لازم ہے اک روز دنیا سے میرا بچھڑ بھی
خاک ڈالو گے ہوا دنیا سے من بلند شدم
جانیں گی تیرا حال سیلیاں چطوری بھی
کبھی مسکراو گے کبھی خوب رویا گے تم
گاہ بگاہ لیا کرو گے نفیس میرا نام بھی !!
آنکھوں دیکھ کر پیا ہے زہر عمر بھر
رقیبوں نے سمجھایا پھر بتلایا بھی
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






