آنچل کا تحفہ دو
Poet: عرشیہ ہاشمی By: arshiya hashmi, islamabadمیں وہی شے ہوں جسے دل میں بساتے ہو تم
جسکو پھولوں کے زیوروں سے سجا کر اکثر
ہوٹلوں میں تو کبھی پارک میں بلاتے ہو
اپنے پہلو میں سجا کر فخر بھی کرتے ہو
جس کو چندا سے کم تو تم مثال دیتے نہیں
اپنی یاروں سے بھی اس چاند کو چھپاتے نہیں
کرتے ہو کیا۔۔۔؟ خیال کرتے نہیں۔۔!!
تمھارے دل تو ہوں۔۔۔ اور تمھارے گھر میں بھی
صبح سے رات گئے رابطوں میں رہتے ہو
جسکو تم جان اپنی کہتے ہو
اور عزت سے بھی بلاتے نہیں
تمھارے دل میں تو ہوں۔۔ اور تمھارے گھر میں بھی
بہن ہو گی تمھارے گھر میں۔۔۔۔۔ بیٹیاں ہوں گی
نہ بھی ہوں تو ضرور زندگی میں ماں ہوں گی
میں بہن بیٹی ہوں،،،،یوں مجھے رسوا نہ کرو
تمھاری راہ سے گذروں تو بھی نگاہ نی کرو
مجھ کو تو ہے عزیز عزتوں کا گہوارہ
سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ سے میرا یہ مان خدارا مت چھینو
دفن کر دو تم اپنے غلط ارادے دل میں
میں بہن بیٹی ہوں۔۔۔۔ سر پہ میرے ہاتھ رکھو
خلوصِِ دل سے اک آنچل کا مجھے تحفہ دو
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں







