آدھا ادھورا آدمی
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiآرزوئیں تشنہ میری
خواہشیں سب ناتمام
میرے سارے رشتے ناتے
کچے دھاگے سے بندھے
ریت کے جیسے گھروندے
جیسے پیکر کانچ کے
میرا تو ہر اک تعلق
ٹوٹا پھوٹا اور خام
حیثیت کیا ہے مری
اور میں بھی ہوں کیا آدمی
بھیڑ میں لوگوں کی اور محفل میں تنہا آدمی
ایک بکھری زندگی کو جوڑنے میں منہمک
اور پھر ناکام ہوکر اپنے زخمی ہاتھ زخمی روح تکتا آدمی
دوسروں کے درد کو دل کی تڑپ کرنے کا شوق
دوسروں کے غم کو سینے سے لگانے کی لگن
اور نتیجہ
خالی ہاتھوں میں دہک اُٹھتی ہے آنکھوں کی جلن
میرے دل کی بات ہے بس دل میں رہنے کے لیے
جذبے آنسو بن کے بس سینے میں بہنے کے لیے
اور زباں خاموش، بس خاموش رہنے کے لیے
سینہ ہے جلتا ہوا احساس کی اک آگ میں
اور جاں احساس کی یہ آگ سہنے کے لیے
بے وجہ جیتا ہوا، آدھا ادھورا آدمی
یہ جیے جاتا ہے جو آدھا ادھورا آدمی
یہ ہے کس کے کام کا
آدمی بھی کیا ہے، بس یہ آدمی ہے نام کا
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






