آج بھی
Poet: maqsood hasni By: maqsood hasni, kasurبہت سے گم ہوئے
بہت سے مر گیے
کچھ پس ستم کیے
کچھ عدم معنویت کی صلیب چڑھے
ہاں‘ شاہ نواز
تاریخ کی لوح پر زندہ رہے
وہ ہی وقتوں کے ہیرو ٹھہرے
جن پر ملاں کی مہر ثبت ہوئی
انہیں کون جھٹلائے
سچ کا آئینہ دکھائے
جھوٹ‘
معنویت کے ساتھ زندہ رہا
سکھ کا سانس لیتا رہا
احساس بنا
عزت کی دلیل ہوا
معبدءتوقیر میں پڑا
یہ صدیوں کا ورثہ
طاق میں رکھ کر
کوئی کیوں‘
اس لفظ کو تلاشے
جو معاشی روایت نہیں
سماجی حکایت نہیں
بےسر وادی معاش ہو کہ
شاہ کے صنم کدے
شہوت کی عشرت گاہوں
گنجان آباد صحراؤں میں
اس کا کیا کام
سچ کے شبدوں کی خاطر
فاقہ کی کربلا سے گزر کر
حق کے ہمالہ کی چوٹی
کوئی کیوں منزل بنائے
سپیدی لہو
کب کبھی‘
کسی سرمد کی ہم سفر رہی ہے
حمادی کے فتوے نے
راکھ گنگا کے حوالے نہ کی
شاہ نواز حرف اور نقطے
مظلوموں کی شریعت ہے
آج بھی‘
لوح فہم و احساس کے ایوان پر
ان کی سچائی کا علم لہراتا ہے
11-7-1978
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






